Qur’an (Urdu) — Surah Al-Fātiḥah

سورۃ الفاتحہ (۷ آیات) — خوبصورت کتابی انداز میں۔

Arabic
Translation & Tafseer
سُورَةُ الْفَاتِحَةِ • Al-Fātiḥah
Meccan • 7 verses • Ref: 1:1–7
UR • Book Mode
1
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع، جو نہایت مہربان، بے حد رحم والا ہے۔
تفسیر

سورۃ الفاتحہ کا آغاز “بِسْمِ ٱللَّهِ” سے ہوتا ہے۔ یہ صرف آغاز نہیں، یہ “زندگی کی سمت” درست کرنے والا اصول ہے۔ آج کے دور میں جب ہم کوئی بڑا نظام بناتے ہیں—مثلاً مواصلاتی نیٹ ورک، مصنوعی سیارہ، یا کوئی پیچیدہ خودکار مشین—تو ابتدا میں سب سے پہلے مقصد واضح کیا جاتا ہے، پھر قواعد مقرر ہوتے ہیں، اور پھر نظام کو چلانے کے لیے اسے باقاعدہ آغاز دیا جاتا ہے۔ اگر ابتدا میں مقصد غلط ہو یا بنیادی ترتیب خراب ہو تو پوری کارکردگی بگڑ جاتی ہے۔ “بسم اللہ” یہی بنیادی ترتیب درست کرتی ہے: میرا عمل اپنے نفس کے لیے نہیں، بلکہ اُس رب کے نام سے ہے جو ہر نظام کا خالق ہے۔

پھر “الرحمن” اور “الرحیم” انسان کو یہ بتاتے ہیں کہ کائنات کا نظم صرف طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ رحمت کے ساتھ قائم ہے۔ خلا نوردی اور سائنسی تحقیق ہمیں دکھاتی ہے کہ زمین کی قابلِ رہائش حالت ایک ہی شرط سے نہیں بنی، بلکہ بے شمار نازک توازنوں سے بنی ہے: فضاوی پردہ، مقناطیسی میدان کا تابکاری سے بچاؤ، سورج سے مناسب فاصلہ، زمین کی گردش و جھکاؤ، اور پانی کا مسلسل گردش کرتا نظام۔ اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی بڑا فرق ہوتا تو زندگی ممکن نہ رہتی۔ یہ سب اس بات کی مثال ہے کہ اللہ کی رحمت مخلوق پر محیط ہے—اور اسی لیے سورۃ کی ابتدا رحمت کے بیان سے ہوتی ہے تاکہ انسان نظام کی سختیوں کے ساتھ رحمت کے سایے کو بھی پہچانے۔

2
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
تفسیر

“رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ” کہہ کر قرآن ہماری سوچ کو صرف زمین اور انسان تک محدود نہیں رکھتا بلکہ وہ رب کو تمام عوالم کا پروردگار قرار دیتا ہے۔ مفسرین نے “عالمین” کی تشریح اپنے اپنے انداز میں کی ہے۔ بعض نے اسے “تمام مخلوقات” کے معنی میں لیا—یعنی انسان، جن، حیوانات اور دیگر مخلوقات۔ بعض مفسرین نے مختلف جہانوں کی تقسیم کی، جیسے عالمِ انسان، عالمِ جن، عالمِ حیوان اور عالمِ حشرات۔ اور حضرت اشرف علی تھانویؒ جیسے اہلِ علم نے بھی اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ ربوبیت اللہ کی ایسی صفت ہے جو ہر مخلوق اور ہر دائرے کو گھیرے ہوئے ہے۔

آج کا انسان جب “عالم” کا لفظ سنتا ہے تو وہ صرف نظر آنے والی دنیا نہیں سمجھتا۔ جدید زمانے میں ہم جانتے ہیں کہ زندگی کے اندر بھی کئی ایسے جہان ہیں جو آنکھ سے نظر نہیں آتے، مگر ان کے اثرات انسان کی پوری زندگی پر چھا جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جراثیم اور بیکٹیریا—یہ اتنے باریک ہیں کہ عام آنکھ انہیں دیکھ نہیں سکتی، لیکن یہی چھوٹی مخلوق انسان کے جسم میں بیماری پیدا کر سکتی ہے، بعض اوقات ذہنی اور اعصابی نظام کو متاثر کر دیتی ہے، اور کبھی موت تک کا سبب بن جاتی ہے۔ تو “عالم” صرف وہ نہیں جو نظر آئے؛ عالم وہ بھی ہے جو چھپا ہو مگر حقیقت میں موجود ہو، اور جس کا اثر بہت بڑا ہو۔

اسی طرح آج کی ٹیکنالوجی ہمیں ایک اور زاویہ سمجھاتی ہے۔ ہر نظام کا اپنا ایک دائرہ اور اپنا ایک جہان ہوتا ہے۔ جیسے مواصلاتی نظام میں پیغامات کسی مخصوص جگہ محفوظ ہوتے ہیں، بینکاری کے نظام میں حسابات ایک الگ نظام کے تحت محفوظ ہوتے ہیں، اور ہر چیز کسی نہ کسی ذخیرے میں ترتیب اور حفاظت کے ساتھ رکھی جاتی ہے۔ گویا ہر نظام کا اپنا ایک عالم ہے—اپنے قوانین، اپنے ضابطے، اپنی حدود اور اپنی حقیقت کے ساتھ۔ اسی مثال سے انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ “عالمین” کا مطلب بے شمار دائرے ہیں—ہر ایک کی اپنی ترتیب، اور ہر ایک پر ایک ہی رب کی ربوبیت قائم ہے۔

پھر قرآن انسان کو اس سے بھی آگے لے جاتا ہے۔ ہم جس زمین پر ہیں، یہ ایک نظام کا حصہ ہے—شمسی نظام کا۔ یہاں زندگی کو قائم رکھنے کے لیے سورج کی روشنی، زمین کا فاصلہ، فضا کی حفاظت، اور کششِ ثقل کے قوانین سب مل کر کام کرتے ہیں۔ لیکن یہ صرف یہی ایک سیارہ نہیں۔ انسان آج مریخ کو دیکھتا ہے، مشتری کے بعض چاندوں پر غور کرتا ہے، اور دور دراز سیاروں کی کھوج میں لگا ہے کہ کہیں زندگی کے آثار موجود ہیں یا نہیں۔ انسان کی یہ تلاش خود اس بات کی گواہی ہے کہ “عالمین” صرف ایک عالم نہیں—بلکہ اللہ کی تخلیق کی وسعت ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی وسعت کو قرآن ایک اور جملے میں اور واضح کرتا ہے: “وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ” یعنی تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ آیت انسان کے علم کو اس کی حد بتاتی ہے۔ آج ہم سمجھتے ہیں کہ کروڑوں نوری سال کے فاصلے ہم طے نہیں کر سکتے، کئی کہکشائیں ہماری پہنچ سے باہر ہیں، اور زمین سے باہر کی مخلوق کا یقینی علم ہمارے پاس نہیں—مگر رب کے لشکر اور رب کے عوالم بے شمار ہیں۔ ممکن ہے اللہ کی مخلوق کہیں اور بھی ہو، ایسے سیاروں میں بھی جہاں تک انسان کا پہنچنا ممکن نہیں۔ قرآن کا انداز یہی ہے: وہ انسان کو علم کی دعوت دیتا ہے مگر غرور سے بچاتا ہے، اور کائنات کو دیکھ کر رب کو پہچاننے کی طرف لے جاتا ہے۔

پس “رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ” کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نہ صرف انسان کا رب ہے، نہ صرف زمین کا رب ہے—بلکہ ہر اُس جہان کا رب ہے جو ہم دیکھتے ہیں، اور ہر اُس جہان کا بھی جسے ہم نہیں دیکھ سکتے۔ وہ ہر عالم کا خالق بھی ہے، اس کا نظام بھی قائم رکھتا ہے، اور ہر مخلوق کی پرورش بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو انسان کے دل میں عاجزی بھی پیدا کرتی ہے، اور یقین بھی—کہ میں جس قدر بھی علم حاصل کر لوں، رب کی تخلیق اور رب کی ربوبیت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

3
الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
جو نہایت مہربان، بے حد رحم والا ہے۔
تفسیر

یہ آیت دوبارہ رحمت کو دہراتی ہے کیونکہ جدید دور میں علم بڑھنے کے ساتھ انسان کے اندر غرور بڑھنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ جب انسان خودکار آلات بناتا ہے جو تیز رفتاری سے فیصلے کرتے ہیں، جب وہ دور بیٹھ کر حالات کی نگرانی کر لیتا ہے، جب وہ لمحوں میں دنیا بھر کی معلومات تک پہنچ جاتا ہے، تو کبھی وہ یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ اب وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ قرآن اس دھوکے کو توڑتا ہے: کائنات کا رب وہ ہے جو رحمان بھی ہے اور رحیم بھی۔ یعنی علم اور طاقت کی اصل حفاظت رحمت ہے—اگر رحمت نہ ہو تو انسان اپنی ہی طاقت سے تباہ ہو جائے۔ اسی لیے اللہ نے اپنی کتاب کے آغاز میں انسان کو یقین دلایا کہ رب کی قدرت کے ساتھ مہربانی بھی ہے، اور بندے کے لیے لوٹنے کا دروازہ بھی کھلا ہے۔

4
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
روزِ جزا کا مالک ہے۔
تفسیر

“مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ” جدید دنیا کے انصاف کے نظاموں کی کمزوری کو واضح کر دیتی ہے۔ آج ہمارے پاس ریکارڈ محفوظ کرنے کے بے شمار طریقے ہیں، مگر پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ طاقتور لوگ بعض اوقات قانون سے بچ نکلتے ہیں، یا حقیقت کو چھپا لیا جاتا ہے، یا کمزوروں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اصل فیصلہ اُس دن ہوگا جس دن انصاف کامل ہوگا۔

یہاں یوم الدین دراصل انسان کے لیے حتمی جواب دہی کا دن ہے۔ آج کا انسان جانتا ہے کہ اگر کسی نظام میں جواب دہی ختم ہو جائے تو وہ نظام بگڑ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر انسان اپنی زندگی میں آخرت کی جواب دہی کو بھلا دے تو وہ خواہش کے پیچھے چل کر ظلم کر سکتا ہے اور فساد پھیلا سکتا ہے۔ قرآن اس آیت کے ذریعے جدید انسان کو بتاتا ہے کہ تمہارے پاس علم اور وسائل ہیں، مگر ان کا صحیح استعمال اسی وقت ہوگا جب تمہارے اندر جواب دہی کا یقین ہوگا۔

5
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔
تفسیر

یہ آیت انسان کی زندگی کا مرکز ہے: “اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ”۔ آج دنیا میں سہولتیں بہت ہیں، آلات بہت ہیں، اور انسانی نظام آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی بڑا نظام رُک جاتا ہے تو انسان فوراً اپنی کمزوری محسوس کرتا ہے۔ کبھی بجلی چلی جائے، کبھی مواصلاتی نظام متاثر ہو، کبھی کسی خرابی سے کام رک جائے—تو پورا ماحول ہل جاتا ہے۔ قرآن یاد دلاتا ہے کہ اصل سہارا مخلوق کے بنائے ہوئے وسائل نہیں، بلکہ خالق کی مدد ہے۔ وسائل اختیار کرو مگر دل اللہ کے ساتھ رہے، کیونکہ وہی مدد دائمی ہے۔

“نعبد” عبادت کو صرف عبادات تک محدود نہیں کرتا بلکہ زندگی کے پورے نظام کو اللہ کے حکم کے تابع کر دیتا ہے: سچائی، انصاف، دیانت، پاکیزگی، اور حقوق العباد۔ اس طرح قرآن انسان کو ایک ایسا اخلاقی نظام دیتا ہے جو جدید دور کے شور اور مادیت کے اندر بھی انسان کو سیدھا رکھتا ہے۔

6
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے—
تفسیر

“اِهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ” آج کے دور کی سب سے بڑی دعا ہے۔ معلومات کی کمی نہیں؛ مواد ہر جگہ ہے۔ اصل ضرورت رہنمائی کی ہے۔ جیسے سفر میں اگر راستہ غلط ہو جائے تو جتنا آگے بڑھتے جائیں منزل سے دوری بڑھتی جاتی ہے، اسی طرح زندگی میں اگر ہدایت نہ ہو تو انسان جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا زیادہ بھٹکتا جاتا ہے۔ قرآن سکھاتا ہے کہ راستہ صرف معلوم کرنا کافی نہیں، بلکہ اس پر ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔

7
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام فرمایا؛ نہ اُن کے جن پر غضب ہوا، اور نہ گمراہوں کے۔
تفسیر

پھر قرآن تین انجام واضح کرتا ہے: ایک وہ جنہیں اللہ نے انعام دیا—انہوں نے سچ قبول کیا اور عمل کیا؛ دوسرے وہ جنہوں نے سچ جان کر ضد میں رد کیا؛ اور تیسرے وہ جو علم کے بغیر خواہش یا ماحول کے پیچھے چل پڑے۔ یہ تقسیم انسان کو اپنی سوچ، اپنی نیت اور اپنے عمل کا جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے، تاکہ وہ سیدھے راستے کی پہچان کرے اور اسی پر قائم رہے۔

خلاصہ

جلد آرہا ہے

خلاصہ: سورۃ الفاتحہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے۔ اس میں اللہ کی حمد، ربوبیت، رحمت، یومِ جزا، عبادت و استعانت، اور صراطِ مستقیم کی دعا بیان ہوتی ہے۔

نوٹ: باقی تمام سورتوں پر کام جاری ہے — اِن شاء اللہ جلد مکمل قرآن اسی خوبصورت ترتیب کے ساتھ شائع کر دیا جائے گا۔

Open